حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سری نگر: نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) اور ضلع انتظامیہ سری نگر کے باہمی اشتراک سے 18 تا 26 جولائی 2026 شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC) میں منعقد ہونے والا چنار بک فیسٹیول 2026 آج کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اس عظیم علمی و ادبی میلے کا شاندار افتتاح جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا۔ نو روز تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں ملک بھر سے تقریباً 200 ناشرین، 250 سے زائد کتابی اسٹالز اور 800 سے زیادہ ادیب، شاعر، دانشور اور فنکار شریک ہوئے، جبکہ شیعہ مکتبِ فکر کی مؤثر، منظم اور باوقار نمائندگی بھی خصوصی طور پر نمایاں رہی۔ مختلف شیعہ اداروں کے کتابی اسٹال نہ صرف اہلِ تشیع کی علمی و فکری خدمات کے تعارف کا ذریعہ بنے بلکہ مختلف مذاہب، مسالک اور طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں زائرین، طلبہ، اساتذہ، محققین اور دیگر آنے والے افراد (Visitors) کی توجہ کا مرکز بھی رہے۔

فیسٹیول کے دوران یہ بات نمایاں طور پر محسوس کی گئی کہ حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات کے بعد لوگوں میں اسلامی جمہوریہ ایران، انقلابِ اسلامی، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، شیعہ عقائد، اسلامی فلسفے اور ایرانی علمی و فکری روایت کے بارے میں جاننے کا رجحان پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھا ہے۔ بڑی تعداد میں اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ، نوجوان، خواتین، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور غیر مسلم وزیٹرز نے شیعہ کتابی اسٹالز کا دورہ کیا، اسلام اور تشیع کے بارے میں سوالات کیے اور مستند کتابوں کے ذریعے ان موضوعات سے آگاہی حاصل کی۔

مکتبِ شیعہ کی مؤثر اور باوقار نمائندگی
فیسٹیول میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز (اسٹال نمبر 05)، مکتبۃ الامام الحسن المجتبیؑ کشمیر (اسٹال نمبر 69) اور عبداللہ بک شاپ حسن آباد، سری نگر (اسٹال نمبر 139) نے شیعہ مکتبِ فکر کی بھرپور نمائندگی کی۔ ان اسٹالز پر قرآن کریم، تفسیر، نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ، سیرتِ اہلِ بیتؑ، اسلامی تاریخ، فقہ، اخلاق، تربیت، دفاعِ عقائد، اسلامی فلسفہ اور معاصر اسلامی افکار پر مشتمل مستند کتابوں کا وسیع ذخیرہ موجود تھا۔ خصوصی طور پر ایران کلچر ہاؤس نئی دہلی کے زیر اہتمام شائع ہونے والی "ولایت پبلی کیشنز" کی متعدد کتابیں بھی قارئین کی توجہ کا مرکز رہیں۔ اسلامی معارف، انقلابِ اسلامی، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، ایرانی مفکرین اور معاصر اسلامی افکار پر مشتمل ان کتابوں کو وزیٹرز نے غیر معمولی دلچسپی سے دیکھا، خریدا اور ان سے استفادہ کیا۔
علماء، مؤرخین اور دانشوروں نے مطالعے اور کتابی ثقافت کے فروغ پر زور دیا
فیسٹیول کے دوران مختلف علماء، دانشوروں، مؤرخین اور سماجی شخصیات نے بھی شیعہ کتابی مراکز کا دورہ کیا اور کتابی ثقافت کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین بشیر احمد بٹ نے کہا کہ کتاب انسان کی فکری تربیت، اخلاقی تعمیر اور شعوری بیداری کا بنیادی ذریعہ ہے اور معاشرے میں مطالعے کی روایت کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
مولانا ریاض احمد ڈار نے کہا کہ کتابیں انسان کی شخصیت سازی، اخلاقی تعمیر اور فکری پختگی کا مؤثر ذریعہ ہیں اور ایک باشعور معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
کشمیر کے ممتاز مؤرخ اور دانشور جسٹس حکیم امتیاز نے کتابی ثقافت کو زندہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باشعور قوموں کی شناخت ان کے علمی سرمایے اور مطالعے کی روایت سے ہوتی ہے۔

مولانا اقبال حسین میر نے نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کے مسلسل مطالعے کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور اسے فکر، عدل، اخلاق اور حکمت کا لازوال سرچشمہ قرار دیا۔
معروف دانشور ڈاکٹر میر محمد ابراہیم نے مطالعے کو علم میں اضافہ، فکر میں وسعت اور شخصیت میں پختگی کا ذریعہ قرار دیا، جبکہ مولانا بشیر احمد بوٹو نے اپنی کتاب "نفسیاتی جہیز" کے ذریعے خاندانی نظام، اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاح کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
فیسٹیول کے دوران متعدد غیر مسلم اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے وزیٹرز نے بھی قرآن کریم، سیرتِ رسول اکرم ﷺ، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات، اسلامی تہذیب اور شیعہ عقائد سے متعلق کتابوں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ نے مختلف موضوعات پر سوالات کیے اور علماء و اسٹال منتظمین سے رہنمائی حاصل کی۔ نوجوانوں میں بالخصوص اسلامی فلسفہ، ایرانی مفکرین اور فارسی زبان سے متعلق کتابوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کی غماز رہی کہ مستند علمی سرمایہ آج بھی معاشرے میں اپنی کشش اور اہمیت برقرار رکھتا ہے۔
26 جولائی کو اختتام پذیر ہونے والے چنار بک فیسٹیول 2026 نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ کتاب ہی شعور، بصیرت اور تہذیبی ارتقا کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ اس سال شیعہ کتابی مراکز کی فعال اور مؤثر شرکت نے اہلِ بیتؑ کے مکتبِ فکر، اسلامی معارف، ایرانی علمی روایت اور مستند دینی لٹریچر کو مختلف طبقات تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ فیسٹیول میں عوامی دلچسپی اور مثبت ردِعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرے میں معیاری اور مستند اسلامی کتابوں کی ضرورت اور ان کی طلب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ